SK_royal_court
Plz Log In 4 Enjoying Much more THan ur expectations


 
HomeHome  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 عجوہ جنت کی کھجور

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
♥Royal♥
Royal Queen
Royal Queen


Gender : Female Join date : 2009-12-13
Location : Dunya main...
Job/hobbies : book reading,computer,designing....

PostSubject: عجوہ جنت کی کھجور    Fri Sep 09, 2011 7:19 am

[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
عجوہ کھجور کی تاثیر سحر وزہر سے حفاظت
”عن سعد قال: سمعت رسول اللّٰہ ا یقول: من تصبح بسبع تمرات عجوة لم یضرہ ذلک الیوم سم ولاسحر“۔ (۱)
ترجمہ:․․․․”حضرت سعدبن ابی وقاص (۲) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ا کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص صبح کے وقت کوئی اور چیز کھانے سے پہلے سات عجوہ کھجوریں کھائے گا‘ اس کو اس دن کوئی زہر اور جادو نقصان نہیں پہنچائے گا“۔
تشریح
عجوة مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سے ایک قسم ہے‘جو صیحانی(۳) سے بڑی اور مائل بہ سیاہی ہوتی ہے‘ یہ قسم مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سب سے عمدہ اور اعلیٰ ہے۔
”زہر“ سے مراد وہی زہر ہے جو مشہور ہے (یعنی وہ چیز جس کے کھانے سے آدمی مرجاتا ہے) یا سانپ ‘ بچھو اور ان جیسے دوسرے زہریلے جانوروں کا زہر بھی مراد ہوسکتا ہے۔
مذکورہ خاصیت (یعنی دافع سحر وزہر ہونا) اس کھجور میں حق تعالیٰ کی طرف سے پیداکی گئی ہے‘ جیساکہ قدرت نے از قسم نباتات دوسری چیزوں (جڑی بوٹیوں وغیرہ) میں مختلف اقسام کی خاصیتیں رکھی ہیں‘ یہ بات آنحضرت اکو بذریعہٴ وحی معلوم ہوئی ہوگی کہ (عجوہ) کھجور میں یہ خاصیت ہے‘ یا یہ کہ آنحضرت ا کی دعا کی برکت سے اس کھجور میں یہ خاصیت ہے (۴) عجوہ کا درخت آنحضرت ا نے اپنے دست مبارک سے لگایا۔
علامہ ابن اثیری کہتے ہیں کہ عجوہ صیمانی سے بڑی ہے‘ اس کا درخت خود نبی کریم ا نے اپنے دست اطہر سے لگایا تھا:
”ضرب من التمر اکبر من الصیمانی وہو مما غرسہ المصطفیا بیدہ فی المدینة“ (۵)
سات کے عدد میں حکمت
جہاں تک سات کے عدد کی تخصیص کا سوال ہے تو اس کی وجہ شارع کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں‘ بلکہ اس کا علم توقیفی ہے یعنی آنحضرت ا سے سماعت پر موقوف ہے کہ آپ ا نے سات ہی کا عدد فرمایا اور سننے والوں نے اسی کو نقل کیا‘ نہ تو آنحضرت ا نے اس کی تخصیص کی وجہ بیان فرمائی اور نہ سننے والوں نے دریافت کیا‘ جیساکہ رکعات وغیرہ کے اعداد کا مسئلہ ہے۔ (۶)
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ سات ہی کا عدد بہتر اور مناسب ہے‘ اس کی حکمت اور حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں (۷)
امام نووی فرماتے ہیں: حضور ا کا کھجور کی تمام اقسام میں سے عجوہ کو خصوصیت دینا اور پھر سات کے عدد کے ساتھ مخصوص فرمانا یہ امور اسرار سے ہیں جن کی حکمت ہم تو نہیں سمجھ سکتے‘ لیکن جو کچھ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا ہے، اس پر ایمان رکھنا واجب ہے اور یہی اعتقاد رکھنا چاہئے کہ عجوہ ہی کو برتری وفضیلت ہے اور اس میں بھی ضرور کوئی حکمت ہے۔ (۸)
سات کے عدد میں عجیب نقطہ
بعض اہل علم نے نماز میں سات فرائض کی حکمت یہ لکھی ہے کہ انسان کا جسم سات چیزوں سے بنا ہے ۱:․․․ مغز یعنی بھیجا‘ ۲:․․․رگیں‘۳:․․․گوشت‘ ۴:․․․پٹھے‘ ۵:․․․ہڈیاں‘ ۶:․․․خون‘ ۷:․․․جلد یعنی کھال‘ یہ سب سات ہوئے ،ان ساتوں اجزاء کے شکریہ میں سات فرض رکھے گئے‘ ہرایک چیز کا شکریہ ایک فرض۔(۹)
کیا بعید ہے کہ اللہ کے نبی ا نے سات کھجور کھانے کی تاثیر یہ بیان فرمائی کہ انسان کا جسم سات اشیاء سے بنا ہے‘ ہر شئی کے بدلہ میں ایک کھجور ۔
سات عدد کے متعلق علامہ ابن قیم کی تحریر
حافظ ابن قیم جوزی سات کے عدد کی حکمت بیان فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”رہ گئی سات عدد کی بات تو اس کو حساب اور شریعت دونوں میں خاص مقام حاصل ہے‘ خدا تعالیٰ نے سات آسمان بنائے‘ سات زمین پیدا کیں‘ ہفتے کے سات دن مقرر فرمائے‘ انسان کی اپنی تخلیق سات مرحلوں میں ہوئی‘ خدا تعالیٰ نے اپنے گھر کا طواف اپنے بندوں کے ذمہ سات چکروں سے شروع کیا‘ سعی بین الصفا والمروة کے چکر بھی سات مرتبہ شروع کئے‘ عیدین کی تکبیریں سات ہیں‘ سات برس کی عمر میں بچوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کا حکم ہوا ‘ حدیث میں ہے:
”مروہم بالصلاة وہم سبع سنین “۔
یعنی اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو۔
پیغمبر خدا ا نے اپنے مرض میں سات مشکیزہ پانی سے غسل کرانے کے لئے فرمایا: خدانے قوم عاد پر طوفان سات رات تک جاری رکھا۔
رسول اللہ ا نے دعا فرمائی کہ: خدائے پاک! میری مدد فرما ایسے سات سے جیسے سات حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے۔
خداکی طرف سے صدقہ کا ثواب جو صدقہ دینے والوں کو ملے گا سات بالیوں سے (جو ایک دانہ سے اگتی ہیں جن میں سو‘سو دانے ہوں) تشبیہ دی‘ اور وہ خواب جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا اس میں سات بالیاں ہی نظر آئی تھیں اور جن سالوں میں کاشت نہایت عمدہ ہوئی‘ وہ سات سال تھے اور صدقہ کا اجر سات سوگنا تک اور اس سے بھی زائد۔ سات کے ضرب کے ساتھ ملے گا۔
اس سے اندازہ ہوا کہ سات کے عدد میں ایسی خاصیت ہے جو دوسرے عدد کو حاصل نہیں‘ اس میں عدد کی ساری خصوصیات مجتمع ہیں‘ اور اطباء کو سات کے عدد سے خاص ربط ہے۔ خصوصیت سے ایام بحران میں بقراط کا مقولہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز سات اجزاء پر مشتمل ہے ۔ ستارے سات‘ ایام سات‘ بچہ کی طفولیت کی عمر سات‘ پھر صبی چودہ سال‘ پھر مراہق‘ پھر جو ان‘ پھر کہو لت‘ پھر شیخ پھر ہرم اور خدائے پاک ہی کو اس عدد کے مقرر کرنے کی حکمت معلوم ہے ‘اس کا وہی مطلب ہے جو ہم نے سمجھایا ،اس کے علاوہ کوئی معنی ہے اور اس عدد کا نفع خاص اس چھوہارے کے سلسلے میں جو اس ارض مقدس کا ہو اور اس علاقے کا جو جادو اور زہر سے دفاع کرتا ہے‘ اس کے اثرات اس کے کھانے کے بعد روک دیئے جاتے ہیں‘ کھجور کے اس خواص کو اگر بقراط وجالینوس وغیرہ اطباء بیان کرتے تو اطباء کی جماعت آنکھ بند کرکے تسلیم کر لیتی اور اس پر اس طرح یقین کرتی جیسے نکلتے آفتاب پر یقین رکھتی ہے‘ حالانکہ یہ اطباء خواہ کسی درجہ کے عاقل ہوں وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ ان کی رسا عقل اور اٹکل یا گمان ہوتا ہے۔ ہمارا پیغمبر جس کی ہر بات یقینی اور قطعی اور کھلی دلیل وحی الٰہی ہو‘ اس کا قبول وتسلیم کرنا تو بہرحال ان اطباء سے زیادہ حسن قبولیت کا مستحق ہے‘ نہ کہ اعتراض کا مقام ہے اور زہر کی دافع دوائیں کبھی بالکیفیت اثر انداز ہوتی ہیں‘ بعض بالخاصیة اثر انداز ہوتی ہیں ۔

__________________________________________________
[You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
♥Noor ul Ain♥
DesigneR


Gender : Female Zodiac : Aries Rabi-us-Saani
Birthday : 1987-03-21
Join date : 2009-12-10
Location : Apne Dil Main (♥)
Job/hobbies : Chawiliyaan Maarna

PostSubject: Re: عجوہ جنت کی کھجور    Fri Sep 09, 2011 10:01 am

SubhanAllah kiya baat hai
wese royal g apk threads wakyi mai bht faida mand or mufeed hote hain thnx royal gggggggg apki is thread se kafi la ilam jo k is bemaari ka shikaar huye hogain to is se theek ho jayegain

__________________________________________________
[You must be registered and logged in to see this image.]
I aM So LuCkY... [You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
 
عجوہ جنت کی کھجور
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
SK_royal_court :: Islam :: Hadees-
Jump to: