SK_royal_court
Plz Log In 4 Enjoying Much more THan ur expectations


 
HomeHome  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 منگنى پر منگنى كرے

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
♥Royal♥
Royal Queen
Royal Queen


Gender : Female Join date : 2009-12-13
Location : Dunya main...
Job/hobbies : book reading,computer,designing....

PostSubject: منگنى پر منگنى كرے   Sat Oct 09, 2010 1:49 am

اگر پہلے شخص سے منگنى ختم كرو تو ميں تم سے منگنى كر سكتا ہوں
مجھ سے چھوٹا بھائى اپنے چچا كى بيٹى سے بہت زيادہ محبت كرتا ہے، ليكن اس لڑكى ايك دوسرے شخص كى منگنى ہو چكى ہے، ليكن اس نے سنت پر عمل كرتے ہوئے اس رغبت كى كسى دوسرے سے صراحت نہيں كى كيونكہ شريعت نے كسى كى منگنى پر منگنى كرنے سے منع كيا ہے.
ليكن ميرے چچا كى بيٹى اور اس كے منگيتر اور سسرال والوں كے ساتھ بہت زيادہ مشكلات پيدا ہو چكى ہيں و اساسى اور بينادى اور دينى امور ميں ہيں، جس كى بنا پر كبھى بھى يہ شادى كامياب نہيں ہو سكتى.
اس بنا پر ميرے بھائى نے جرات كرتے ہوئے اپنے گھر والوں سے اپنى رغبت كا اظہار كيا كہ اگر اس كے چچا كى بيٹى اپنے منگيتر كو چھوڑ دے تو وہ اس سے شادى كر سكتا ہے، اور چچا كى بيٹى كے بارہ ميں بھى جواب ملا كہ وہ بھى اسے چاہتى اور اس سے شادى كرنا چاہتى ہے، لڑكى نے واضح طور پر اپنے والد سے يہ بات كہہ دى ہے.
اب ميرا بھائى بغير كوئى دخل ديے انتظار كر رہا ہے، اور يہ اعلان بھى نہيں كرتا كہ وہ اپنے منگيتر كو چھوڑے تا كہ وہ اس سے شادى كر سكے، وہ اس سلسلہ ميں كثرت سے نماز بھى ادا كرتا اور دعا بھى كرتا ہے، ميں يہ اطمنان كرنا چاہتى ہوں كہ آيا جو كچھ ميرے بھائى نے كيا ہے كيا وہ صحيح ہے ؟
اور كيا اس كا اپنے چچا كى بيٹى سے شادى كرنے كى دعا كرنا ممنوع ہے يا كہيں يہ زيادتى تو نہيں كہلائيگى ؟

الحمد للہ:

كسى بھى مسلمان شخص كے ليے جائز نہيں كہ وہ اپنے مسلمان بھائى كى منگنى كو موجودگى ميں اسى عورت سے منگنى كرے اور اسے شادى كا پيغام دے، ليكن اگر وہ مسلمان اسے چھوڑ دے يا پھر اسے منگنى كى اجازت دے تو پھر جائز ہے كيونكہ حديث ميں اس كى ممانعت آئى ہے.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك دوسرے كى بيع پر بيع كرنے سے منع فرمايا، اور نہ ہى كوئى شخص كسى دوسرے شخص كى منگنى پر منگنى كرے، حتى كہ وہ پہلا منگيتر اسے چھوڑ دے يا وہ اسے اجازت دے دے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5142 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1412 ).

امام نووى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يہ احاديث اپنے بھائى كى منگنى پر منگنى كرنے كى حرمت پر واضح دليل ہيں، اور علماء كرام كا اس كى حرمت پر اجماع ہے، كہ جب رشتہ طلب كرنے والے كے ليے صريحا ہاں كر دى گئى ہو اور اس كا رشتہ قبول كر ليا گيا ہو، اور نہ تو وہ اسے اجازت دے اور نہ ہى اسے چھوڑے تو رشتہ طلب كرنا حرام ہے " انتہى

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 9 / 197 ).

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال دريافت كيا گيا:

ايك شخص كى منگنى پر دوسرے شخص نے رشتے كا پيغام دے ديا تو كيا ايسا كرنا جائز ہے ؟

شيخ الاسلام كا جواب تھا:

" الحمد للہ:

صحيح حديث ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" كسى بھى شخص كے ليے حلال نہيں كہ وہ اپنے بھائى كى منگنى پر منگنى كرے "

اس ليے آئمہ اربعہ وغيرہ اس كى حرمت پر متفق ہيں.

صرف ان كا دوسرے شخص كے نكاح كے صحيح ہونے ميں تنازع پايا جاتا ہے، اس ميں دو قول ہيں:

پہلا قول:

يہ نكاح باطل ہے، مثلا امام مالك كا قول، اور امام احمد كى ايك روايت ہے.

دوسرا قول:

يہ نكاح صحيح ہے، يہ قول ابو حنيفہ اور امام شافعى كا ہے اور امام احمد كى دوسرى روايت ہے، اس بنا پر كہ حرام تو نكاح سے پہلے منگنى تھى، اور جنہوں نے اسے باطل قرار ديا ہے وہ كہتے ہيں كہ يہ چيز عقد نكاح كو بالاولى باطل كرتى ہے.

اس ميں علماء كا كوئى نزاع نہيں كہ ايسا كرنے والا اللہ سبحانہ و تعالى اور اس كے رسول كا نافرمان ہے، اور معصيت و گناہ پر علم ہونے كے ساتھ اصرار كرنا انسان كے دين اور اس كے عادل ہونے اور مسلمانوں پر ولايت كے معاملہ ميں جرح كا باعث بنتا ہے " انتہى

ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 7 ).

اس ليے آپ كے بھائى كو اللہ سبحانہ و تعالى كا تقوى اور ڈر اختيار كرنا چاہيے اور وہ صبر كرے، اور اگر وہ منگيتر ميں كوئى ايسا عيب اور خلل ديكھتا ہے جسے بطور نصيحت و خيرخواہى بيان كرنا ضرورى ہو تو سچى خيرخواہى كے ساتھ بيان كرے، ليكن وہ اس ميں اس لڑكى سے شادى كى رغبت كا اظہار مت كرے.

رہا يہ مسئلہ كہ اس نے رغبت ظاہر كى ہے كہ اگر وہ اپنے پہلے منگيتر كو چھوڑ دے تو وہ اس سے شادى كر سكتا ہے، تو يہ بعينہ منگنى پر منگنى ہے، اور يہ حرام ہے جيسا كہ اوپر بيان ہو چكا ہے.

اور پھر عورت كے ولى كے ليے بغير كسى شرعى سبب كے منگنى كو ختم كرنا حرام ہے.

شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" عورت كے والد كے ليے حلال نہيں كہ وہ پہلے ايك شخص كا اپنى بيٹى كے ليے رشتہ قبول كر لينے كے بعد دوسرے شخص كا رشتہ قبول كرے، ليكن اگر اس كا كوئى شرعى موجب ہو تو پھر ہو سكتا ہے " انتہى

ديكھيں: فتاوى الشيخ محمد بن ابراہيم ( 10 / 43 ).

اگر آپ كا بھائى اس سے مبحت كرتا اور اس ميں رغبت ركھتا ہے، جيسا كہ آپ نے بيان كيا ہے، تو پھر اس نے پہلے رشتہ كيوں نہ مانگا، اس كے رشتہ طلب كرنے سے پہلے كسى اور نے رشتہ طلب كر ليا ہے.

اب اسے چاہيے كہ وہ توبہ و استغفار كرے، اور اپنے چچا كو بتائے كہ اس نے رشتہ طلب كرنے كى جو رغبت ظاہر كى ہے اس پر نادم ہے، اور اسے نصيحت كرے كہ وہ پہلے رشتہ كے ساتھ وفا كرتے ہوئے اس سے وعدہ پورا كرے اور اس كى رغبت كو مت ديكھے، ليكن اگر كوئى ايسا سبب ہو جس كى بنا پر منگنى توڑنا مباح ہے تو پھر كوئى مسئلہ نہيں.

رہا دعا مانگنے كے بارہ ميں تو آپ كے بھائى كو نيك و صالح بيوى حاصل ہونے كى دعا كرنى چاہيے، نہ كہ كوئى معين عورت حاصل ہونے كى، كيونكہ ہو سكتا ہے اس كى دعا قبول ہو جائے ليكن اس سے اس كى شادى ميں بہترى نہ ہو.

اس ليے وہ اللہ سبحانہ و تعالى سے خير و بھلائى كى دعا كرے كہ جہاں بھى خير و بھلائى ہے اسے نصيب فرمائے، چاہے وہ اس عورت ميں ہو يا كسى دوسرى ميں.

اللہ سبحانہ و تعالى سب كو ايسے اعمال كرنے كى توفيق دے جن سے اللہ راضى ہوتا ہے اور جنہيں پسند فرماتا ہے.

واللہ اعلم .

__________________________________________________
[You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.][You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
[You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
♥Noor ul Ain♥
DesigneR


Gender : Female Zodiac : Aries Rabi-us-Saani
Birthday : 1987-03-21
Join date : 2009-12-10
Location : Apne Dil Main (♥)
Job/hobbies : Chawiliyaan Maarna

PostSubject: Re: منگنى پر منگنى كرے   Sat Oct 09, 2010 6:34 am

:jazak1

__________________________________________________
[You must be registered and logged in to see this image.]
I aM So LuCkY... [You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
sweet smile
Topaz Gem
Topaz Gem


Gender : Female Zodiac : Aries zul-Hijjah
Birthday : 1995-03-29
Join date : 2010-11-11
Location : Bahrain

PostSubject: Re: منگنى پر منگنى كرے   Thu Nov 11, 2010 1:36 am

:jazak1
bht zabardast sharing dearest siso
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: منگنى پر منگنى كرے   Today at 5:12 pm

Back to top Go down
 
منگنى پر منگنى كرے
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
SK_royal_court :: Islam :: Islamic Thoughts-
Jump to: